Islamic Inheritance Rules in Hadith

پہلے مال کی اولاد مستحق تھی اور والدین کو وصیت کا حق تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کر دیا اور لڑکوں کو لڑکیوں کے دگنا حق دیا اور والدین کو اور ان میں سے ہر ایک کو چھٹے حصہ کا مستحق قرار دیا اور بیوی کو آٹھویں اور چوتھے حصہ کا حق دار قرار دیا اور شوہر کو آدھے یا چوتھائی کا حق دار قرار دیا ۔

BUKHARI: 6739

نبی کریم ﷺ نے فرمایا “ میراث اس کے حق داروں تک پہنچا دو اور جو کچھ باقی بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے ۔”

Bukhari: 6732

سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کو جو سعد سے پیدا ہوئی تھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں، ان کے باپ آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے، اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، اور بغیر مال کے ان کی شادی نہیں ہو گی۔ آپ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا”، چنانچہ اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان  ( لڑکیوں )  کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو مال کا دو تہائی حصہ دے دو اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ، اور جو بچے وہ تمہارا ہے۔

Tirmizi: 2092

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : میں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔  مجھ پر غشی طاری تھی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور وضو کا کچھ پانی مجھ پر ڈالا ۔ 

( اس سے میں ہوش میں آ گیا ۔ ) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کیا کروں ؟ اپنے مال کے بارے میں کیا فیصلہ کروں ؟ تب میراث کی وہ آیت نازل ہوئی جو سورہٴ نساء کے آخر میں ہے «

﴿ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَللَةً ﴾» ’’ اور جس کی میراث لی جاتی ہے اگر وہ مرد ( یا عورت ) کلالہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اور ( وہ آیت اتری ) «﴿ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ ﴾» ’’ آپ سے فتوی پوچھتے ہیں ۔ کہہ دیجیے : اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

IBN-E-MAJAH : 2728

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں معلم و امیر بن کر تشریف لائے ۔ ہم نے ان سے ایک ایسے شخص کے ترکہ کے بارے میں پوچھا جس کی وفات ہوئی ہو اور اس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو اور اس نے اپنی بیٹی کو آدھا اور بہن کو بھی آدھا دیا ہو ۔

Bukhari: 6734

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیٹی ، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں جا ، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے ۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو گمراہ ہو چکا اور ٹھیک راستے سے بھٹک گیا ۔ میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا ، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا ، اس طرح دو تہائی پوری ہو جائے گی اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا ۔ ہم پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی گفتگو ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ عالم تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو ۔

Bukhari: 6736

آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ اگر میں اس امت کے کسی آدمی کو ’’ خلیل ‘‘ بناتا تو ان کو ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ) خلیل بناتا ، لیکن اسلام کا تعلق ہی سب سے بہتر ہے تو اس میں آنحضرت ﷺ نے دادا کو باپ کے درجہ میں رکھا ہے ۔

Bukhari : 6738

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے خاندان میں ایک دادا کو ( اس کے پوتے کے ترکے میں سے ) چھٹا حصہ دینے کا فیصلہ دیا ۔

IBN-E-MAJAH : 2723

ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی، ابوبکر رضی الله عنہ نے اس سے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب  ( قرآن )  میں کچھ نہیں ہے اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی کچھ نہیں ہے، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھ لوں، انہوں نے لوگوں سے اس بارے میں پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے دادی یا نانی کو چھٹا حصہ دیا، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: تمہارے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ محمد بن مسلمہ انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور اسی طرح کی بات کہی جیسی مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہی تھی۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے لیے حکم جاری کر دیا، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس دوسری دادی  ( اگر پہلی دادی تھی تو دوسری نانی تھی اور اگر پہلی نانی تھی تو دوسری دادی تھی )  میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی۔ انہوں نے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب  ( قرآن )  میں کچھ نہیں ہے البتہ وہی چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں  ( دادی اور نانی )  اجتماعی طور پر وارث ہو تو چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور تم میں سے جو منفرد اور اکیلی ہو تو وہ اسی کو ملے گا۔

TIRMIZI: 2101

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جدہ ( نانی یا دادی ) کو وراثت میں چھٹا حصہ دیا ۔

IBN-E-MAJAH : 2725

تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو «من بعد وصية توصون بها أو دين» “تم سے کی گئی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد  ( میراث تقسیم کی جائے گی)”  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔  ( اگر حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں موجود ہوں تو )  حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی بھائی  ( جن کے باپ ایک اور ماں دوسری ہو )  وارث نہیں ہوں گے، آدمی اپنے حقیقی بھائی کو وارث بناتا ہے علاتی بھائی کو نہیں”۔

Tirmizi : 2094

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔”

Tirmizi : 2108

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “قاتل  ( مقتول کا )  وارث نہیں ہو گا۔”

Tirmizi : 2109