پریس رلیزآل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کا میراث کے موضوع کو لیکر  قانونی بیداری پروگرام کا انعقاد

ڈاکٹر فاروق کی صدارت میں جانے مانے وکیلوں، تعلیمی و سماجی شکسیتوں نے کیا خطب

نئی دہلی/ آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ (AIEM) کی جانب سے تسمیہ ہال، نئی دہلی میں اپنی قانونی تعلیمی سیریز کے ایک حصے کے طور پر ایک بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا تھیم ’’وراثت اور میراث–اسلام میں وراثت کا قانون–ہندوستانی تصور اور قانونی فریم ورک‘‘ رکھا گیا تھا۔
اس پروگرام میں جامعہ ملیہ اسلامیہ لا فیکلٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سبھرادیپتا سرکار نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی جبکہ سینئر ایڈوکیٹ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر جناب وسیم قادری مہمان خصوصی کے طور پر موجود رہے۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ایس فاروق، صدر، ہمالیہ ویلنس کمپنی اور تسمیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی نے کی۔
صدر جناب خواجہ ایم شاہد نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔
کلیدی مقررین کے طور پر اسلامی اسکالر مفتی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی اور وراثت کے حساب کتاب کے ماہر ڈاکٹر انور عالم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے مشیر اور سپریم کورٹ کے وکیل ایم آر شمشاد نے اس سیمینار میں خطاب کیا۔
قابل ذکر ہے کہ مفتی رضی الاسلام نے اسلام میں وراثت کے مذہبی پہلوؤں، حیبا، وصیت اور میراث کے درمیان فرق اور مختلف رشتوں اور ماں یا باپ اور یتیموں اور پوتے پوتیوں کے ذریعے جائیداد اور حصّوں کی منتقلی کی شرائط پر بات کی۔ ساتھ ہی  پوتیوں کے جیسے رشتوں کی اقسام بھی بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دفعات قانون کے ساتھ ساتھ مذہبی اخلاقیات کا بھی مرکب ہیں اور جو چیز قانون فراہم نہیں کرتا وہ مذہبی اخلاقیات سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اس کے بعد وراثت کے حساب کتاب کے ماہر ڈاکٹر انور عالم نے خطاب کیا جنہوں نے مختلف معاملات میں وراثت یا حصّوں کے حساب کتاب کے بارے میں اپنی شاندار پریزنٹیشن کے ذریعے اصولوں کی وضاحت کی۔
اس پروگرام میں مفتی اطہر شمسی، ڈائریکٹر القرآن اکیڈمی، کیرانہ، اتر پردیش نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مختصراً خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قرآن کے احکام پر عمل کی اہمیت بیان کی جو علم سے بھرپور اور انسانیت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔
ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے مغل دور سے لے کر 18ویں صدی کے آغاز تک جانشینی کے ذاتی قوانین کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کس طرح برطانوی ہندوستانی عدالتوں نے ہدایہ کے ترجمے کے ساتھ رواج کی بنیاد پر قانون کا اطلاق کیا اور بعد میں کون سا قانون نافذ کیا۔ جو اگے چلکر مختلف طریقوں سے تیار اور نافذ کیے گئے تھے۔
ڈاکٹر ایس۔ فاروق نے اپنے بے مثال شاعرانہ انداز میں صدارتی تقریر کر کے حاضرین کو مسحور کر دیا۔
جبکہ مہمان خصوصی ڈاکٹر سرکار نے برٹش انڈیا کے زمانے کے قصے سنائے اور مہمان زی وقار وسیم قادری نے اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے میں کردار اور عمل صالح کی اہمیت کا ذکر کیا۔ آخر میں مقررین نے موجود لوگوں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

پروگرام کا آغاز AIEM کے خزانچی مظفر علی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جہاں مہمانوں اور مقررین کا استقبال سپریم کورٹ کے وکیل اسلم احمد نے کیا۔ ایڈوکیٹ رئیس احمد نے پروگرام کی نظامت کی اور اپنے خیالات بھی پیش کئے۔
آخر میں پروگرام کا اختتام AIEM کے جنرل سکریٹری جناب عبدالرشید نے مہمانوں اور مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *